اعلی درجے کی تلاش
کا
3010
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2009/05/18
 
سائٹ کے کوڈ fa1508 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 5081
سوال کا خلاصہ
کیا روزه کی حالت میں بلغم کا گھونٹنا روزه کے لئے مضر هے
سوال
میں رمضال المبارک کے مهینه میں جب گریه کرتا هوں تو ناک کے پانی کو حلق کی طرف کھینچتا هوں جو بعد میں معده تک پهنچ جاتا هے ؛ اگر میں کوشش کرتا هوں که کھینچنے کے بجائے رومال سے صاف کرلوں تو مجھے قے آنے لگتی هے ، میں کیا کروں که گریه و خدا سے راز و نیاز کے سبب میرا روزه باطل نه هو؟
ایک مختصر
تفصیلی جواب...
تفصیلی جوابات

مراجع عظام کے نظریئے کے مطابق بلغم اور ناک کا پانی اگر منھ کی فضا میں نه پهنچے تو اس کے گھونٹنے سے روزه کے لئے کوئی مشکل نهیں هے لیکن اگر منھ کی فضا میں پهنچ جائے تو بعض مراجع کے نظریه که مطابق گھونٹنا جائز نهیں هے ، بعض کے مطابق احتیاط واجب اور بعض کے مطابق احتیاط مستحب هے که گھونٹنے سے پرهیز کرے [1] ۔

لهذا اگر آپ مجبور هیں تو منھ کی فضا تک پهنچنے سے پهلے یه کام انجام دیں ؛ لیکن منھ کی فضا تک پهنچنے کے بعد ، اگر آپ کے مرجع کا نظریه یه عدم جواز هے تو بلغم یا ناک کا پانی هرگز نه گھونٹئے ، لیکن اگر آپ کے مرجع تقلید کا نظریه اس سلسله میں ، احتیاط واجب هے تو آپ اس احتیاط پر عمل کر بھی سکتے هیں اور نهیں بھی کر سکتے مطلب یه که گھونٹ نهیں سکتے اور یا تو(( " اعلم فا الاعلم" کی رعایت کرتے هوتے )) کسی دوسرے مجتهد کے فتوے کی طرف رجوع کریں جو احتیاط مستحب کے قائل هوں جیسے (آقائے سیستانی و روحانی ) ان کے فتوے پر عمل کرسکتے هیں ؛ ایسے میں آپ کا روزه باطل نهیں هوگا ۔

مسئله کی وضاحت : مثال کے طور پر اگر آپ اس مجتهد کی تقلید کرتے هیں جو اس مسئله میں احتیاط واجب کا قائل هے تو اس صورت میں آپ کو اختیار هے که اسی مسئله میں کسی دوسرے مجتهد کی طرف رجوع کریں ، اب اگر آپ کی کوشش کے بعد آپ کے مجتهد کے بعد اعلم مجتهد ایسا هو که اس کے فتوے میں بلغم یا ناک کا پانی گھونٹنا جائز نهیں هے تو یهاں پر آپ اس کے فتوے سے هٹ کر تیسرے مجتهد کی طرف جو که احتیاط مستحب کے قائل هوں رجوع نهیں کر سکتے هیں ۔

هاں اگر احتیاط مستحب کا کوئی فتو یٰ دینے والا مجتهد آپ کے مجتهد کے بعد اعلم هے تو اس مسئله میں اس کی تقلید بھی کر سکتے هیں اور یا اپنے مجتهد کے فتوے ( احتیاط واجب ) پر بھی عمل کر سکتے هیں ۔

لیکن اگر آپ کے مجتهد کے بعد دونوں مرجع اعلمیت میں مساوی هوں ، ان میں سے ایک کا فتویٰ عدم جواز هو اور دوسرے کا احتیاط مستحب ایسی صورت میں آپ کو اختیار هے که دونوں میں سے جس کی طرف رجوع کرنا چاهیں کر سکتے هیں ۔



[1]  توضیح المسائل مراجع ، ج 1 ، ص 894 ، م 1580-1579 ؛ اجوبۃ الاستفتاآت ( فارسی ترجمه ) ص 178-177 ، سوال 799 ۔

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا