اعلی درجے کی تلاش
کا
6230
ظاہر کرنے کی تاریخ: 2010/04/20
 
سائٹ کے کوڈ fa8019 کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ 27862
سوال کا خلاصہ
عقل اور جذبات میں سے کون مکمل تر ہے؟ کیا ان میں سے صرف ایک کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکا ہے؟
سوال
عقل اور جذبات میں سے کون مکمل تر ہے؟ کیا ان میں سے صرف ایک کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکا ہے؟
ایک مختصر

سب سے پہلے قابل توجہ ہے کہ عقل، دل، جذبات اور شہود وغیرہ میں سے ہر ایک کی اصلی اور متعالی ثقافت میں اپنی خاص تعریف اور مقام ہے اور یہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اصلی نکتہ یہ ہے کہ غور وفکر کے بغیر ان تعبیرات سے اپنی رفتار و کردار کی توصیف اور توجیہ کے لئے استفادہ نہیں کرنا چاہئیے-

اس میں کوئی شک  نہیں ہے کہ عقل کی نورانیت سے استفادہ کئے بغیر صرف جذبات سے کام لینا انسان کے کمال کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے- اس بنا پر انسان کی عقل اس کے کمال اور شکوفائی کے لئے، پیغمبر باطنی کے عنوان سے رہبری اور ہدایت کا کام انجام دے سکتی ہے-

جذبات، عشق اور شہود وغیرہ ذاتی طور پر مقدس امور ہیں لیکن مبداء و معاد کے بارے میں ان کی معرفت کا فقدان اور راہنما اور خط دینے کے عنوان سے دین و عقل کی ہدایت کے نہ ھونے کی وجہ سے یہ قلبی اور روحی حالات انسان کے لئے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ممکن ہے  یہی باطنی جذبات خود انسان کے خلاف حالات و صفات کا سبب بنیں اور اسے نجات کے ساحل تک پہنچنے نہ دیں-

تفصیلی جوابات

" عقل یا دل" کی بحث میں فیصلوں کی مختلف قسمیں مدنظر ہیں کہ ان سب کے بارے میں ایک ہی نقطہ نظر سے بات نہیں کی جاسکتی ہے، کیونکہ یہ بحث کافی متفاوت ہے اور ہر بات اور نکتہ کا اپنا مقام ھوتا ہے-

عقل، جذبا، منطق یا عشق، عقل یا اشراق اور دل یا ذہن میں سے ایک کو منتخب کرنے کے بارے میں پیش کیے گیے سوال اور اس کے مشابہ سوالات کو ایک کلی مقولہ میں قرار دیا جاسکتا ہے اور اس نظریہ کے مطابق ہمیں معلوم ھوگا کہ اس بحث سے متعلق ایک وسیع معارف ہے یا اس میں موثر ہے اور ہر فرد کی زندگی کے تجربہ میں انسان کا خدشہ اسی سوال کے بارے میں ہے –

عقل و منطق کے مطابق فیصلہ کرنا، بعض اوقات،  اہم ترین امتخابات میں معیشتی عقل یا " محاسباتی عقل" کا فیصلہ شمار ھوتا ہے، اگر ہم اس نقطہ نگاہ سے مسئلہ پر نظر ڈالیں تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ سچا دلی جذبہ، دینی عقل اور عملی اخلاق کے قریب تر ہے، بجائے اس کے کہ اس قسم کی منطق صرف مادی مقاصد اور آرزوں کو مد نظر رکھے – دوسری جانب سے بعض اوقات جذبات سے فیصلہ کرنا وہی نفس امارہ کی خواہشات ہیں، یعنی مادی جبلتوں کی خواہشات اور آرزوں میں اسیر ھوناہے، اس کے لئے کوئی فرق نہیں ہے کہ اسے آپ کس اصطلاح سے یاد کریں، خواہ عقل ھو یا جذبات، اور سب سے بدتر یہ ہے کہ انسان ان ہی فریب اور دھوکہ دینے والے الفاظ سے اپنے آپ کودھوکہ دے، کیونکہ عشق و عقل و جذبات اور منطق وغیرہ اکثر اوقات اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ھوتے- مثال کے طور پر عقل کو مادی منطق اور خود محوری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور عشق کو دوسروں کے معاملات میں مداخلت یا بے راہ روی اور نفس پرستی کے عنوان سے استعمال کرتے ہیں اور جذبات کو بے ارادہ ھونے کے عنوان سے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ان معنی میں سے ہر ایک کا اصلی ثقافت میں ایک خاص مقام ومنزلت ہے، کہ غور و فکر کے بغیر ان معانی پر الزام نہیں لگانا چاہئیے یا کسی غلط توجیہ کے لئےمعنوی تحریف کے بعد ان الفاظ سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے-

عقل اوردل:

اس بحث کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر دو پہلو سے تحقیق کی جائے-

۱-اسلامی فکر میں عقل و دل:

عقل کے مقام و منزلت کی توصیف میں اسلامی فلسفہ کی تاریخ میں کافی بحث کی گئی ہے اور عقل کے حامی فلاسفہ کے طریقہ کار سے عرفا کی مخالفت کی داستان، عرفا کے ادبیات میں اس قدر مشہور ہے کہ اسے دہرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، بعض فلاسفہ نے ان دو کا ایک نچوڑ پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے-

اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ ، علمائے اسلام اور مفکرین، یعنی علمائے شریعت، فلاسفہ اور عرفا میں سے ہر ایک نے خاص وسائل سے حقیقت کی تلاش کی کوشش کی ہے{ پہلے گروہ نے روایات سے، دوسرے گروہ نے عقل سے اور تیسرے گروہ نے دل سے} لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فکر اور اصلی اسلامی معرفت میں عقل اور دل مکمل طور پر متحد ہیں[1] اور حتی قرآن مجید میں فہم کو دل سے نسبت د گئی ہے اور جو قلبی فہم نہیں رکھتے ہیں، انھیں " لا یفقہون" کہا گیا ہے-[2]

اس بنا پر جو عقل حقیقی عشق کا فتوی نہ د ے{ حکم نہ کرے} وہ محاسباتی منطق ہے اور جو عشق ،عقل و معرفت کے عرو ج پر نہ ھو ،جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور عقل و دل کے دعویداروں کے درمیان جو اختلافات اور جدل واقع ھوئے ہیں،  وہ ان کی لاعلمی کی خبر دیتے ہیں-

الہی فلاسفہ اور کامل عرفا اس حقیقت سے واقف تھے، اس لحاظ سے ان کے نظریہ کے مطابق عشق، عقل کا عروج ہے اور عقل بھی عشق کے لئے ہادی ورہبر ہے-

لیکن یہ امر مسلم ہے کہ محاسباتی عقل اور دنیوی معنی میں عشق، دونوں اس مقولہ سے خارج ہیں- نہ محاسباتی عقل اشیاء کی حقیقت کی معرفت کو حاصل کرسکتی ہے اور نہ خالص عشق یہ قدرت رکھتا ہے-

عقل کے خلاف بہت سے عرفا کا کلام ، عقل کے اسی معنی کی عکاسی کرتا ہے کہ اکثر انسان اسے اپنے ذاتی فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں- لیکن عشق ایک مقدس لفظ ہے، کہ اپنے آپ کو خدا کے حضور میں فنا فی اللہ کرتا ہے اور بنیادی طور پر اس سے نفسانی خواہشات کے لئے استفادہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے-

۲-انفرادی اور اجتماعی نفسیات میں عقل اور دل:

لیکن روز مرہ جذبات اور احساسات ، کہ عام طور پر انسان کا ان کے ساتھ سروکار ھوتا ہے ، کے بارے میں کہنا چاہئیے کہ، اس قسم کے بہت کم افراد ملتے ہیں جنھوں نے ان حالات اور قلبی جذبات کے بارے میں  مکمل معرف حاصل کی ہے اور اس معرفت کے نتیجہ میں اپنے جذبات پر قابو پالیا ہے، اس طرح کہ نہ اپنے دل سےجگھڑااور انکار کیا ھو اور نہ جذبات اورخواہشات کی تاریکیوں میں سر گردان ھوئے ھوں-

اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ اندھے جذبات کی پیروی کرنا اور ایک لمحہ کے لئے عقل و معرفت اور ہدایت الہی سے محروم ہونا، جہالت و گمراہی میں غرق ھونے کا سبب ھوگا، اور عقل و معرفت کی نورانیت سے فاقد دلی جذبات انسانی کمال کے لئے کوئی فائدہ ،نہیں پہنچا سکتے ہیں-

خود دار ھونا اور اپنے آپ پر کنٹرول کرنا اور نفسانی خواہشات کا اسیر نہ ھونا، معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے ، حالانکہ سادہ ترین راہ ان جذبات سے اجتناب کرنا ہے-

یہاں پر ہمیں غلط فہمی کا شکار ھوکر معرفت سے عاری نفسانی خواہشات کو عشق نہیں سمجھنا چاہئیے- یہ نفسانی خواہشات اور جذبات ایسے قوا ہیں کہ جوبن دیکھے عمل کرتے ہیں اگر ان پر قابو پاسکیں تو بلند درجہ حاصل ھوسکتا ہے – لیکن اگر معرفت اور عقل قدسی کے بغیر جذبات انسان کی پوری ہستی پر فرمانروائی کریں، تو وہ حتی اپنی بہترین صورت یعنی مثبت جذبات میں بھی اچھے راہنما نہیں ھوں گے-

اس بنا پر انسان کی فطری عقل، اسی کے کمال اور شکوفائی کے لئے دینی نشانیوں اور ہدایتوں سے استفادہ کرکے باطنی پیغمبر اور رہبر کے عنوان سے انسان کی ہدایت کرسکتی ہے-

اس لحاظ سے بلند مرتبہ عقل اور دینی معرفت، ایک الہی عنصر کے عنوان سے، وہی چیز ہے جو انسان کے دلی جذبات کو نورانیت و آگاہی بخشتی ہے اور اسے بلند مرتبہ دیتی ہے-

مثال کے طور پر ایک انسان کے بارے میں عشق جو ایک قلبی مظہر ہے ، فرد کی معرفت کی حد میں قرار پاتا ہے اور اس کی کارکردگی معرفت کے اسی درجہ کے مطابق ھوگی- ممکن ہے، انسان اس نام نہاد عشق کے لئے ظلم و خیانت کا بھی مرتکب ھوجائے یا اسے نفرت میں تبدیل کرے یا شرک سےدوچار ھوجائے- اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک بلند معرفت کی روشنی میں کسی وابستگی کے بغیر اس قلبی مظہر سے معنوی رہائی حاصل کرے اور اس کی معنوی حالت عشق الہی میں تبدیل ھوجائے – ممکن ہے انسان معرفت کو اپنے اندر سرکوب کرے اور مادی اور دنیوی امور کی طرف تمائل کی وجہ سے اس سے دوری اختیار کرے اور اپنے قلب و دل کا خدا کے بجائے دنیا سے معاملہ کرے-

مذکورہ مطالب کے پیش نظر معلوم ھوتا ہے کہ جذبات، عشق،شہود اور اشراق وغیرہ ذاتی طور پر مقدس امور ہیں اورمبداء و معاد{ منشا و مقصد} کے بارے میں صحیح شناخت نہ ھونے کی وجہ سے انسان کو تاریکیوں میں سرگردان ھونے کا سبب بن سکتا ہے کہ اچانک عشق، نفرت میں اور امید نا امیدی میں اور شادی غم و اندوہ میں تبدیل ھوتی ہے –

عقل کی محدود کا ر آمد کے بارے میں اور یہ کہ عقل مکمل ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ اس کی دین سے نسبت کے بارے میں مندرجہ ذیل عناوین سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے- اس وضاحت کے ساتھ کہ بعض امور میں عقل کا ناقص ھونا جذبات کے مکمل ھونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ وحی ونبوت کی ضرورت کے معنی میں ہے، سوال: 4746{ سائٹ: ur5047} و سوال: ۴۹۱۰{ سائٹ: ۵۲۸۴ و سوال: 4462{ سائٹ: ur4768}

 


[1] کوه عقلی و بیابان جنونم داده اند

حیرتی دارم از این، کین هردو چونم داده اند

دیوان فیض کاشانی،ص133

[2] «لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها...». 179، الاعراف

 

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ
تبصرے
تبصرے کی تعداد 0
براہ مہربانی قیمت درج کریں
مثال کے طور پر : Yourname@YourDomane.ext
براہ مہربانی قیمت درج کریں
<< مجھے کھینچ کر لائیں.
سیکورٹی کوڈ از صحیح رقم درج کریں

زمرہ جات

بے ترتیب سوالات

ڈاؤن لوڈ، اتارنا